بزم سخن

آقاﷺ تمام بوجھ ہمارے اُتار دیں

اشرفیہ فاطمہ بنت مولانا جمشید عالم
219
0
نوکِ قلم پہ نور کے دھارے اُتار دیں
موسم شعورِ نعت کے سارے اُتار دیں

کر کے غنی نوازشِ پیہم سے آج بھی
آقاﷺ تمام بوجھ ہمارے اُتار دیں

دستِ صبا میں خاکِ شفائے قدوم ہے
مرہم بدن سے درد کے مارے اُتار دیں

اشکوں کے پھول اتنے لُٹائیں شبِ فراق
عمرِ گریز پا کے خسارے اُتار دیں

ساحل سے دور موجِ حوادث کا ہوں ہدف
کشتی کے آس پاس کنارے اُتار دیں

شامِ غبار خوفِ مسلسل میں ہے، حضورﷺ
آنگن میں عافیت کے ستارے اُتار دیں

ان ہجرتوں کی کوکھ سے پھوٹے جمالِ صبح
حسن و عمل میں اتنے شرارے اُتار دیں

اہلِ وطن حضورﷺ دیں اس خاک کا کفن
بے شک، ہزار، جسم میں آرے اُتار دیں

دہلیز مصطفیٰﷺ پہ جبیں رکھ کے ہم ریاضؔ
جھوٹی اَنا کے جھوٹے سہارے اُتار دیں