مضامین

اصل خوبصورتی ایمان، کردار اور اللہ سے تعلق ہے

عظمیٰ فاطمہ بنت محمد میاں خان
1
0
میں اچھے لباس، خوبصورت چہروں، اونچے اسٹیٹس اور دنیاوی شان و شوکت رکھنے والے لوگوں سے مرعوب نہیں ہوتی، کیونکہ میرے نزدیک یہ چیزیں انسان کی اصل عظمت کا معیار نہیں۔ لباس کتنا ہی قیمتی ہو، چہرہ کتنا ہی حسین ہو، مقام کتنا ہی بلند ہو اور دولت کتنی ہی زیادہ ہو، اگر دل اللہ سے دور اور کردار کمزور ہو تو یہ سب ظاہری چمک دمک اپنی حقیقت کھو دیتی ہے۔
مجھے مرعوب کرتے ہیں وہ لوگ جن کا ایمان مجھ سے زیادہ مضبوط ہو، جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت مجھ سے زیادہ ہو، جن کے اعمال مجھ سے بہتر ہوں اور جن کا تعلق اپنے رب سے مجھ سے زیادہ مضبوط ہو۔ مجھے ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک آتا ہے جو آزمائش میں بھی اللہ سے شکوہ نہیں کرتے، نعمت میں بھی غرور نہیں کرتے، تنہائی میں بھی اللہ کو نہیں بھولتے اور لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے رب کی رضا کو سب سے مقدم رکھتے ہیں۔
مجھے ان لوگوں سے محبت ہے جن کے چہروں سے عاجزی جھلکتی ہے، جن کی زبان سے خیر نکلتی ہے، جن کے دل دوسروں کے لیے صاف ہوتے ہیں اور جن کے معاملات میں تقویٰ نظر آتا ہے۔ ایسے لوگ شاید دنیا کی نظر میں بہت عام ہوں، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند ہو تا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(سورۃ النحل، آیت: ۹۰)
ترجمہ کنزالایمان:
"بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے، تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک اچھے مسلمان کی پہچان صرف ظاہری شکل و صورت نہیں بلکہ انصاف، احسان، حیا، نیکی اور اچھے اخلاق ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جن سے انسان کی حقیقی خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث: 2564)
ترجمہ:
"بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"
اس حدیث سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کے ظاہر میں نہیں، اس کے باطن میں ہے۔ چہرہ، لباس اور مال لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں اصل مقام نیت، دل کی پاکیزگی اور نیک اعمال سے ملتا ہے۔
میرے لیے سب سے خوبصورت انسان وہ ہے جسے دیکھ کر دل میں اللہ کی یاد تازہ ہو جائے۔ جس کی گفتگو سن کر دل نرم ہو جائے، جس کی صحبت نیکی کا شوق پیدا کرے، جس کے کردار سے حیا، عاجزی، صبر، شکر اور اخلاص سیکھنے کو ملے۔ ایسا انسان اپنے الفاظ سے کم اور اپنے عمل سے زیادہ دعوت دیتا ہے۔
آج ہم نے خوبصورتی کے معیار ہی بدل دیے ہیں۔ ہم لباس دیکھتے ہیں، برانڈ دیکھتے ہیں، چہرہ دیکھتے ہیں، دولت دیکھتے ہیں، گاڑی، گھر، عہدہ اور سوشل اسٹیٹس دیکھتے ہیں؛ لیکن بہت کم لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ اس شخص کا اللہ کے ساتھ تعلق کیسا ہے؟ اس کی نماز کیسی ہے؟ اس کا اخلاق کیسا ہے؟ اس کا دل کتنا پاک ہے؟ وہ تنہائی میں کیسا ہے؟ اور وہ ان لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے جن سے اسے کوئی فائدہ نہیں ملنا؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل امتحان اس کے ظاہر میں نہیں بلکہ اس کے باطن میں ہے۔ خوبصورت لباس جسم کو سجا سکتا ہے، لیکن خوبصورت اخلاق دلوں کو جیتتا ہیں۔ دولت انسان کو سہولت دے سکتی ہے، مگر تقویٰ اسے عزت دیتا ہے۔ بلند منصب لوگوں کی نظروں میں مقام دے سکتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک مقام ایمان اور نیک اعمال سے ملتا ہے۔

مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جن کا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ حالات ان کے دل کا سکون نہیں چھین سکتے۔ لوگ ساتھ چھوڑ دیں تو وہ اللہ کو کافی سمجھتے ہیں، راستے بند ہو جائیں تو وہ اللہ کے دروازے پر یقین رکھتے ہیں، دعائیں دیر سے قبول ہوں تو مایوس نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ جو کرتا ہے حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
ایسے لوگ مجھے آئیڈیل لگتے ہیں جو نعمت ملنے پر خود کو بڑا نہیں سمجھتے اور آزمائش آنے پر اللہ سے بدگمان نہیں ہوتے۔ جنہیں دنیا کی تعریف خوش نہیں کرتی اور لوگوں کی تنقید توڑتی نہیں ، کیونکہ ان کے دل کا سکون لوگوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت مقام یہ ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کے بجائے ہمیشہ اپنے رب کے سامنے محتاج سمجھے۔ وہ اپنی نیکیوں پر فخر نہ کرے بلکہ اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ ہو، دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کی اصلاح کرے، اور ہر دن خود سے یہ سوال کرے:
کیا آج میرے ایمان میں اضافہ ہوا؟
کیا آج میں اللہ کے پہلے سے زیادہ قریب ہوئی؟
کیا میرے اخلاق پہلے سے بہتر ہوئے؟
کیا میرے کسی عمل سے کسی کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہوا؟
کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں کہ "کیا خوبصورت انسان ہے!"
اصل کامیابی تو یہ ہے کہ ہمارا کردار دیکھ کر دل کہے:
"یہ شخص اللہ سے محبت کرتا ہے۔"
ہمیں ایسے ہی لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جن کی موجودگی ہمارے ایمان کو مضبوط کرے، جن کی باتیں ہمیں غفلت سے جگائیں، جن کا کردار ہمیں اپنے عیوب دیکھنے پر مجبور کرے اور جنہیں دیکھ کر ہمارے دل میں نیکی کی طلب پیدا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ باطنی خوبصورتی عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے روشن فرمائے، ہمارے اعمال میں اخلاص پیدا فرمائے، ہمیں تکبر، ریا، حسد، بغض اور خود پسندی سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں ایسے بندوں میں شامل فرمائے کہ ہماری صحبت لوگوں کو اللہ کی یاد دلائے، ہماری گفتگو انہیں نیکی کی طرف لے جائے اور ہماری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن جائے۔
یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں دیکھ کر تیرا ذکر یاد آئے، جن کے عمل تیرے محبوب ﷺ کی سنت کی خوشبو لیے ہوئے ہوں، جن کا دل تیرے سوا کسی کے سامنے نہ جھکے اور جن کا بھروسہ تجھ پر کامل ہو۔
آمین یا رب العالمین۔
_______________________________
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــنام: عظمیٰ فاطمہ بنت محمد میاں خان
تاریخ: ۲۶ ربیع الثانی ۱۴۴۸ھ
دن: جمعۃ المبارک، ۰۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء