آج کا دور علم و آگہی، سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انسان نے تعلیم، طب اور جدید علوم میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ نوجوان اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں اور چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس ترقی کے باوجود ہمارے معاشرے میں اخلاقی کمزوری ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ڈگریاں اور معلومات تو بڑھ رہی ہیں، مگر سچائی، امانت، صبر، عاجزی اور حسنِ سلوک جیسی صفات کم ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم اور اخلاق کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اس کا بہترین جواب ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ میں ملتا ہے۔
قرآنِ کریم نے رسولِ اکرم ﷺ کے اخلاق کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
(القلم:4)
ترجمہ: ’’اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر ہیں۔‘‘
نبی کریم ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد اخلاق و کردار کی اصلاح بھی تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ
ترجمہ: ’’مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
(مسند احمد: 8952)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں علم اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ علم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کے کردار کو سنوارنا بھی ہے۔ اگر انسان بہت کچھ جانتا ہو، مگر جھوٹ بولتا، دھوکا دیتا، تکبر کرتا اور دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہو تو اس کی تعلیم نے اس کی شخصیت کی مکمل اصلاح نہیں کی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت میں علم اور عمل کو ساتھ رکھا۔ آپ ﷺ نے انہیں صرف احکام نہیں سکھائے بلکہ سچائی، امانت، صبر، رحم، عاجزی اور حسنِ معاشرت کا عملی نمونہ بھی بنایا۔ اسی تربیت نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں علم کے ساتھ کردار کو بھی اہمیت حاصل تھی۔
آج ہمارے معاشرے میں بد اخلاقی کی کئی صورتیں نظر آتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بعض لوگ معاملات میں جھوٹ، دھوکا اور بے ایمانی سے کام لیتے ہیں۔ تعلیمی میدان میں نقل، دوسروں کے کام کو اپنے نام سے پیش کرنا اور علمی امانت کو نظر انداز کرنا بھی اخلاقی کمزوری کی علامت ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر طنز، بدگمانی، تحقیر، جھوٹی خبریں پھیلانا اور اختلاف کی صورت میں سخت الفاظ استعمال کرنا ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سچائی اور امانت کا درس دیتی ہے۔ نبوت سے پہلے ہی اہلِ مکہ رسول اللہ ﷺ کو الصادق اور الامین کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی شخصیت میں علم و قابلیت کے ساتھ سچائی اور امانت بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اسی طرح سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں حسنِ سلوک کی تعلیم دیتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا
ترجمہ: ’’نبی کریم ﷺ نہ فحش گو تھے اور نہ بدزبان، اور آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری: 3559)
آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ایک روشن واقعہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ملتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، مگر آپ ﷺ نے کبھی انہیں ’’اُف‘‘ تک نہیں کہا اور نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یا یہ کام کیوں نہیں کیا۔
(صحیح البخاری: 6038)
یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اخلاق کا اصل امتحان روزمرہ کے معاملات میں ہوتا ہے۔ والدین سے ہمارا لہجہ کیسا ہے؟ بہن بھائیوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا ہے؟ چھوٹوں کے ساتھ ہم کتنی شفقت کرتے ہیں؟ اور اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے؟ یہی چیز ہمارے اخلاق کی حقیقی پہچان ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا بھی اخلاق کا ایک بڑا میدان بن چکا ہے۔ ہماری گفتگو اب صرف گھر یا مجلس تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک پوسٹ یا تبصرہ چند لمحوں میں بہت سے لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر گفتگو کرنی چاہیے۔ کسی کی اصلاح کرنا اور بات ہے، لیکن اسے ذلیل کرنا اور اس کی عزت مجروح کرنا الگ چیز ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں نرم گفتگو، احتیاط اور دوسروں کی عزت کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔
تعلیم کے ساتھ عاجزی بھی ضروری ہے۔ حقیقی علم انسان کے اندر تکبر نہیں بلکہ عاجزی پیدا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ علم و مرتبے کی بلندی کے باوجود غریبوں، کمزوروں اور عام لوگوں کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ اس لیے تعلیم یافتہ انسان کی پہچان صرف اس کی ڈگری یا عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور برتاؤ سے بھی ہونی چاہیے۔
آخر میں ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم صرف تعلیم یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں یا تعلیم کے ساتھ اخلاقِ نبوی ﷺ سے آراستہ معاشرہ بھی؟
حقیقت یہ ہے کہ علم انسان کو راستہ دکھاتا ہے، لیکن اخلاق اس راستے پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اگر علم کے ساتھ کردار کی تعمیر بھی ہو جائے تو یہی تعلیم فرد کی اصلاح، خاندان کی مضبوطی اور معاشرے کی بھلائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف پڑھنے اور بیان کرنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنی گفتگو، معاملات، اخلاق اور روزمرہ زندگی میں عملی شکل دینی چاہیے۔ یہی ایک حقیقی معنوں میں مہذب، بااخلاق اور صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔