- سوالات ، جوابات
- سوال١: اگر زید نے اپنی بیوی ہندہ کے مرنے کے بعد اس کی بھتیجی سے نکاح کیا تو کیا اس کا نکاح ہو جائے گا؟
جواب: اگر زید نے اپنی بیوی ہندہ کے مرنے کے بعد اگر اس کی بھتیجی سے نکاح کیا تو نکاح مذکور جائز ہے اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فورا اس کی بھتیجی سے نکاح جائز ہے، اور اگر ہندہ کے مرنے سے پہلے وہ زید کے نکاح میں رہی اور اس نے ہندہ کی بھتیجی سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح ہرگز نہ ہوا کی پھوپھی کی موجودگی میں بھتیجی سے نکاح کرنا حرام ہے۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۰)
سوال ۲: باپ کی ساس سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: باپ کی ساس جو نانی ہو اس سے نکاح کرنا حرام چاہے وہ سگی نانی ہو یا سوتیلی جیسے کہ سگی دادی اور سوتیلی دادی سے نکاح حرام ہے،
باپ کی وہ ساس جو اس کی نانی نہیں نہ سگی اور نہ سو تیلی اس سے نکاح کرنا جائز ہے کہ وہ حرام نہیں اس لیے کہ باپ کی ساس ہونے سے نانی حرام نہیں بلکہ سگی نانی ماں کی ماں اور نانا کی بیوی ہونے کے سبب حرام ہیں اور نانا کی منکوحہ ہونے کے سبب سوتیلی نانی حرام ہے۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۷)
سوال٣: مطلقہ عورت طلاق کے بیس روز بعد دوسرا نکاح کرے تو یہ نکاح شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟
جواب: خلوت صحیحہ سے پہلے اگر شوہر نے طلاق دے دی تو عورت فوراً جس سے چاہے نکاح کر سکتے ہیں کہ اس کی صورت میں عدت نہیں، اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
"اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡھُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡھُنَّ فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا"
ترجمہ: جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انھیں طلاق دے دو، اس سے پہلے کہ انھیں ہاتھ لگائو تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں،(پ۲۲سورۃالاحزاب،آیت۴۹)
یا عورت حاملہ تھی شوہر نے اسے طلاق دے دی پھر بیس دن کے اندر بچہ پیدا ہوا تو اس صورت میں بھی بیس دن کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضح حمل ہے، اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے"وَ اُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ"
ترجمہ: اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں، (پ۲۸سورہ طلاق،آیت۴)
اور اگر خلوت صحیحہ کے بعد شوہر نے طلاق دی اور عورت حیض والی ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡءٍ"
ترجمہ:اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں،(پ۲سورہ بقرہ،آیت ۲۲۸)
اور اگر بوجہ ہے صغر سنی یا بڑھاپے کے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"وَ الّٰٓیِ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ وَّ الّٰیِ لَمۡ یَحِضۡنَ"
ترجمہ:اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا،
(پ۲۸سورہ طلاق،آیت۴)
ان دونوں صورتوں میں بیس روز پر عورت دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتی۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۸)
سوال۴: اپنی بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اپنی بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے اصل یہ ہے کہ ساس کی حرمت اس وجہ سے نہیں کی وہ خسر کی زوجہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ زوجہ کی ماں ہے اور سوتیلی ساس میں یہ وجہ نہیں لہذا اس کے لیے اس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۲)
سوال۵: کیا بیوی کی حقیقی خالہ سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: بیوی کی حقیقی خالہ سے نکاح کرنا جائز ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث شریف میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت اور اس کی پھوپھی کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اور عورت اور اس کی خالہ کو،
حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ عورت اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ عقد میں رکھنا حرام ہے مگر جب کی عورت نکاح یا عدت میں نہ ہو تو اس کی خالہ سے نکاح کرنا حلال ہے۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول، ص۳۹۲)
سوال٦: زید کے پاس چار بیویاں تھیں ان میں سے ایک کو طلاق دی کچھ دن بعد اس نے چوتھی شادی پھر کر لی تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: اگر زید نے پھر چوتھی شادی عدت گزارنے سے پہلے کی ہے تو یہ نکاح باطل محض ہوا کہ چوتھی عورت کے ہوتے ہوئے اگرچہ وہ عدت میں ہو پانچویں سے نکاح کرنا حرام ہے، اور اگر عدت طلاق ہے اس کی مدت کے بعد عقد کیا ہے تو کوئی حرج نہیں جب کہ اور کوئی وجہ مانع شرعی نہ ہو۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۲)
سوال۷: ہندہ کے لڑکے کا نکاح اس نے بھائی کی پوتی سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب: نکاح مذکورہ جائز ہے اس لیے کہ جب ہندہ کے بھائی کی بیٹی سے اس کے لڑکے کا نکاح جائز ہے تو پوتی سے بدرجہ اولیٰ جائز ہے کہ وہ محرمات میں سے نہیں ہے بشرطیکہ دودھ وغیرہ کا رشتہ کوئی وجہ معانع نکاح نہ ہو۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۳۹۹)
سوال۸: زید کی شادی ہندہ کے ساتھ ہوئی جب وہ رخصت کرا کے لے گیا تو اسی روز چند لوگوں کے سامنے طلاق دے دی طلاق نامہ لکھ کر نہیں دے رہا ہے تو ہندہ کب دوسرا نکاح کر سکتی ہے جب اس کے پاس طلاق کا ثبوت نہیں ہے؟
جواب: اگر زید نے ہندہ کو واقعی طلاق دے دی اور وطی یا خلوت کر چکا تھا تو ہندہ بعد عدت نکاح کر سکتی ہے اس سے پہلے نہیں، اگر وطی یا خلوت نہیں ہوئی تو اس پر عدت نہیں جب چاہے نکاح کر سکتی ہے اور طلاق کے ثبوت کے لیے ان لوگوں سے جن کے سامنے زید نے طلاق دی ہے طلاق کے لیے وہی تحریر کافی ہوگی بشرط وہ لوگ عادل ہوں۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص،۴۰۴)
سوال۹: حاملہ عورت سے نکاح کرنا کیسا ہے۔
جواب: اگر عورت کسی کی نکاح یا عدت میں نہیں ہے یعنی یہ حمل شوہر کا ہے جس نے اسے طلاق دی ہے یا مر گیا تو ایسی حاملہ سے نکاح کرنا جائز نہیں جیسے فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۲۸ پر ہے"لا یجوز للرجل ان یقزوج غیرہ و کذلک المعتدہ" اگر حمل زنا سے ہے یعنی عورت شوہر والی نہیں ہے تو اس سے زانی اور غیر زانی دونوں کا نکاح کرنا جائز ہے مگر جس کا حمل ہے وہ قربت بھی کر سکتا ہے اورغیر زانی کے لیے غربت اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وضح حمل نہ ہو جائے۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۴۰۴)
سوال۱۰: بیوی کی موجودگی میں اس کے مطلقہ یا بیوہ بہو سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بیوی کی موجودگی میں اس کی مطلقہ یا بیوہ بہو سے نکاح کرنا جائز ہے کہ وہ اس کی بہو نہیں اس کی زوجہ کی بہو ہے۔
(فتاوی فقیہ ملت،جلد اول،ص۴۰۳)