مدرّس: استاذی الکریم حافظ محسن سیفی
یہ مرحلہ حدیث کی تدوین کا مرحلہ ہے، یعنی اس مرحلے میں حدیث کی کتابت باقاعدہ شروع ہوچکی تھی۔
`یہ مرحلہ کب شروع ہوا؟`
یہ مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب ہجرت کو سو سال ہونے والے تھے، یعنی اس مرحلے کا آغاز تقریباً سو ہجری میں ہوا، جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی۔ آپ کی عدل و دیانت اور دینی خدمات کی وجہ سے انہیں ثانیِ عمر کہا گیا ہے۔ اس وقت تقریباً سو سال گزر چکے تھے، ایک صدی ہوچکی تھی۔
`تدوینِ حدیث کا کام شروع کیوں کیا گیا؟`
اب سوال یہ ہے کہ تدوینِ حدیث کا کام شروع کیوں کیا گیا؟
اس کے کئی اسباب تھے:
❶ `خوف کہ احادیثِ مبارکہ ضائع نہ ہوجائیں`
ایک اہم سبب یہ تھا کہ لوگوں کے درمیان آقا کریم ﷺ کے فرامین ختم نہ ہوجائیں، ضائع نہ ہوجائیں۔ جن صحابۂ کرام نے احادیثِ مبارکہ کو حفظ کیا تھا، ان کی عمریں بھی تو ہمیشہ رہنے والی نہیں تھیں۔ وہ دنیا سے کوچ کرتے جارہے تھے۔ ان کی وفات کے ساتھ یہ اندیشہ تھا کہ کہیں احادیثِ مبارکہ بھی ضائع نہ ہوجائیں، کیونکہ جنہوں نے احادیثِ مبارکہ حفظ کی تھیں، ان کی اتنی لمبی عمر تو نہیں کہ جو لوگ بعد میں آئیں، سب کو بتاتے جائیں۔
تو بس اس لیے احادیثِ مبارکہ کی باقاعدہ تدوین کا آغاز ہوا، تاکہ آقا کریم ﷺ کے فرامین محفوظ رہیں اور ضائع نہ ہوں۔
❷ `خشیتُ الاختلاط`
دوسرا سبب خشیتُ الاختلاط تھا، یعنی یہ اندیشہ کہ کہیں حدیث کو غیرِ حدیث سے تعبیر نہ کر دیا جائے اور صحیح احادیث کے ساتھ غیرِ حدیث باتیں خلط ملط نہ ہوجائیں۔
جب احادیثِ مبارکہ سینوں میں محفوظ تھیں اور آگے بیان کی جارہی تھیں تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں روایت کرتے ہوئے کسی دوسری بات کو حدیث نہ سمجھ لیا جائے، یا حدیث کے ساتھ کوئی غیرِ حدیث بات شامل نہ ہوجائے۔
اس لیے احادیثِ مبارکہ کو باقاعدہ لکھ کر جمع اور محفوظ کرنا ضروری سمجھا گیا، تاکہ احادیثِ مبارکہ اپنی اصل صورت میں محفوظ رہیں اور حدیث کو غیرِ حدیث سے تعبیر نہ کیا جائے۔
`تدوینِ حدیث`
تدوینِ حدیث کا کام کس نے شروع کروایا تھا؟ کسی صحابی نے کروایا تھا؟ جی ہاں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تئیس ہجری میں ارادہ فرمایا تھا کہ حدیث کی کتابت کی جائے، لیکن پھر ترک کر دیا، یہ خوف کرتے ہوئے کہ کہیں لوگ کتاب اللہ سے منہ نہ موڑ لیں۔ تو اس وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کی کتابت کا ارادہ ترک فرما دیا۔ یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ترک فرما دیا تھا۔ تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ارادہ فرمایا تھا۔
پھر اس کے بعد کس نے کیا؟ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 101ھ) نے کتابتِ حدیث پر باقاعدہ کام کیا اور علماءِ حدیث کو جمع کیا جو دور دراز علاقوں میں تھے۔ ان کے پاس خط بھیجے تاکہ احادیثِ مبارکہ جمع کی جائیں۔ آپ نے اس کام کی ابتدا سو ہجری کے اندر فرمائی تھی اور آپ کا وصال ایک سو ایک ہجری کے اندر ہوا۔ تو آپ پہلے مدوّن ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد انہوں نے تو ارادہ فرمایا تھا، لیکن پہلے مدوّن کہ جس نے کتابت کا کام شروع کروایا، سو ہجری کے اندر وہ تابعی بزرگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ آپ نے تدوینِ حدیث پر کام کروایا تھا سویں سال میں، جب آپ کی خلافت تھی۔ اس کے بعد ایک سو ایک ہجری میں آپ کی وفات ہوگئی۔
حدیث کی ابتدائی کتب اور ان کے مصنفین
محدثین جو ہیں، ان کے یہاں اختلاف اس پر رہا ہے کہ حدیث پر سب سے پہلی کتاب کون سی لکھی گئی؟ اسی طرح اصولِ حدیث پر سب سے پہلی کتاب کون سی لکھی گئی؟ اس کے اندر اختلافات ہیں۔ بعض کے نزدیک کچھ ہے تو بعض کے نزدیک کچھ اور۔ اس اعتبار سے چند یہ ہیں۔
سب سے پہلی جو کتاب لکھی گئی حدیث پر، جیسے ہم کتاب لکھتے ہیں تو ترتیب دیتے ہیں کہ اس کی تعریف، پھر اس کی تفصیل، تو یہ والی نہیں، بلکہ ویسے ہی سب سے پہلی کتاب کون سی؟ سب سے پہلی کتاب امام محمد بن مسلم بن شہاب الزہری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 124ھ) نے لکھی ہے۔ جس طرح آپ نے سنا ہوگا امام اعظم کا اور امام زہری کا واقعہ پیش آیا تھا، رفع یدین والا بھی مناظرہ ہوا تھا۔ محمد بن شہاب بن زہری تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی، تو انہوں نے سب سے پہلی کتاب لکھی تھی حدیث پر۔
پھر امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 179ھ) نے الموطأ لکھی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ بعض نے کہا ہے قرآن کے بعد سب سے معتبر کتاب موطأ ہے، حدیث کے اندر اس کا درجہ ہے۔ بعض کا کہنا ہے ایسا، لیکن بعض نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کتاب اللہ کے بعد جو معتبر کتاب ہے وہ امام مالک کی ہے، جس کو الموطأ امام مالک کہتے ہیں۔ اس کے جو مصنف ہیں، ان کا وصال ایک سو اناسی ہجری میں ہوا۔ امام زہری کے بعد لکھی۔ آپ چونکہ مدینہ میں رہتے تھے، خلیفۂ ثانی، خلیفۂ بنی عباس کے دور میں حدیث کا ایک مجموعہ آپ نے جمع کیا تھا، جس کا نام الموطأ رکھا تھا۔ امام مالک نے اس اعتبار سے امام زہری کے بعد لکھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے معتبر کتاب امام بخاری کی بخاری شریف ہے
اس کے بعد تیسرے نمبر پر امام ابو بکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ العبسی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 235ھ) ہیں۔ یہ یاد رکھنی ہے ذہن میں کہ امام شیبہ ایک اور ہیں۔ ایک امام اعظم ابو حنیفہ کے بعد ایک ایسا دور گزرا ہے، ان کا نام بھی امام اعظم تھا اور کنیت بھی وہی تھی۔ اب ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہمارے والے کون سے ہیں؟ ہم نے کون سی مراد لی ہوئی ہے؟ تو اسماءُ الرجال کے اندر ان کی جو ہے، سنِ وصال یاد رکھا جائے۔ تو ان محدثین کی المتوفیٰ یاد رکھا کریں۔
تیسری کتاب امام ابو بکر ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 235ھ) کی ہے، جس کا نام المصنف ہے۔
ان کے بعد جو ہم حدیثِ پاک پیش کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضور سے پوچھا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے، اللہ نے سب سے پہلے کون سی چیز پیدا کی ہے؟ تو وہ حدیث کون سی کتاب میں ہے؟ تو جو یہ حدیث جس کتاب میں ہے، وہ امام ابو بکر عبدالرزاق بن ہمام بن نافع الصنعانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ: 211ھ) ہیں۔ آپ نے کتاب لکھی، المصنف۔ یہ ہے تو یہ یہ ہمارا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا
`✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی`