مضامین

حدیث کی تاریخِ تدوین

ہمشیرہ اخلاق برکاتی
0
0

`لیکچر#1`
مدرس: استاذی الکریم حافظ محسن سیفی


ہمارا بنیادی موضوع حدیث کی تاریخِ تدوین ہے کہ کہاں سے لکھنا شروع ہوا، کہاں سے ابتدا ہوئی اور یاد کرنے کا مرحلہ کیسا تھا؟

سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث بنیادی دینِ اسلام کا اثاثہ ہیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ قرآن کو اولیت حاصل ہے، لیکن حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا بھی ممکن نہیں؛ کیونکہ قرآنِ کریم میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جبکہ ان کی تفصیل اور وضاحت ہمیں فرامینِ مصطفیٰ ﷺ سے ملتی ہے۔ مثلاً نماز کا حکم قرآنِ کریم میں موجود ہے، لیکن نماز پڑھنے کا طریقہ ہمیں احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح دین کے بہت سے احکام کی تفصیل احادیثِ مبارکہ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔

لہٰذا قرآنِ کریم کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے احادیثِ مبارکہ کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔

اسی وجہ سے صحابۂ کرام نے جس طرح قرآنِ کریم کو محفوظ کرنے اور جمع کرنے کے لیے بڑی جدوجہد اور بڑی کوشش فرمائی، اسی طرح احادیثِ مبارکہ کو بھی بڑی محنت اور جانفشانی سے محفوظ فرمایا، جو آج ہمارے پاس بڑے پیارے انداز میں موجود ہیں۔

پھر جب احادیثِ مبارکہ جمع ہوتی گئیں تو ان کی جانچ پڑتال کی بھی ضرورت پیش آئی کہ یہ حدیث حضورِ اکرم ﷺ سے ثابت ہے یا نہیں، اس کے راوی کون ہیں، روایت کی سند کیسی ہے وغیرہ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک مستقل علم وجود میں آیا، جسے علمِ حدیث کہا جاتا ہے۔

اب اگر ہم حدیث کی تدوین کے مراحل دیکھیں تو بنیادی طور پر چار مرحلے بنتے ہیں۔

`پہلا مرحلہ: حفظ فی الصدور`

پہلا مرحلہ حفظ فی الصدور کا ہے، یعنی صحابۂ کرام احادیثِ مبارکہ سنتے تھے اور انہیں اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا دور بھی اسی مرحلے میں آتا ہے، خلفائے راشدین کا بھی، خلافتِ اُمویہ کا بھی اور تابعین کے ابتدائی دور کا بھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں احادیثِ مبارکہ کو زیادہ تر سینوں میں ہی کیوں محفوظ کیا جاتا تھا؟ اس کے کئی اسباب تھے۔

`پہلا سبب: امت کا اُمّی ہونا`

پہلا سبب یہ تھا کہ امت جو ہے وہ اُمّی تھی، یعنی عام طور پر لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ نبی کریم ﷺ بھی اُمّی ہیں، یعنی ظاہری طور پر کسی سے نہ سیکھا، بلکہ رب کریم نے ہی سکھایا ہے۔ تب ہی تو رب کریم نے فرمایا کہ ہم نے اُمّیوں میں سے ہی ایک رسول بنایا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ [پارہ 28،سورہ جمعہ، آیت 2]

ترجمہ: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا


اسی طرح حدیثِ پاک میں ہے:

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ

ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ایک بے پڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا

اس سے پتا چلتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں لکھنے پڑھنے کا عام رواج نہیں تھا، اس لیے احادیثِ مبارکہ کو یاد کرکے سینوں میں محفوظ رکھنا ایک اہم ذریعہ تھا۔

دوسرا سبب: کتابت کے وسائل نہ ہونا

لیکن ایسا نہیں تھا کہ بالکل کوئی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا۔ کچھ لوگ پڑھے لکھے بھی تھے، لیکن زیادہ لوگ ان پڑھ تھے۔ جو لوگ لکھنا جانتے تھے، وہ قرآنِ کریم کی آیات کو دستیاب وسائل پر لکھ لیا کرتے تھے۔

اُس زمانے میں کتابت کے وسائل بہت کم تھے، چنانچہ پتھروں، ہڈیوں، کھجور کی شاخوں وغیرہ پر قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں، لیکن یہ وسائل بھی بہت محدود تھے۔

اس لیے ہر شخص کے لیے لکھنا ممکن نہ تھا اور احادیثِ مبارکہ کو یاد کرکے سینوں میں محفوظ کرنا زیادہ آسان اور عام طریقہ تھا۔

`تیسرا سبب: قرآنِ کریم کی کتابت میں مشغولیت`

تیسرا سبب یہ تھا کہ صحابۂ کرام قرآنِ کریم کی کتابت میں مشغول تھے۔ جب قرآنِ کریم کی آیات نازل ہوتیں تو ان کی کتابت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس لیے صحابۂ کرام قرآنِ کریم کو لکھنے اور محفوظ کرنے میں خصوصی طور پر مشغول رہتے تھے۔

خلافتِ راشدہ کے اندر قرآنِ کریم جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآنِ کریم کو ایک جگہ جمع کیا گیا، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا اور ان کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا۔

تو پتا چلا کہ قرآنِ کریم کی کتابت اور جمع کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا تھا، جبکہ حدیثِ مبارکہ کو زیادہ تر حفظ کے ذریعے محفوظ رکھا جاتا تھا۔

`چوتھا سبب: ابتدائی دور میں کتابتِ حدیث سے ممانعت`

چوتھا سبب یہ تھا کہ آقا کریم ﷺ نے ابتدائی دور میں غیرِ قرآن کی کتابت سے منع فرمایا، تاکہ قرآن اور غیرِ قرآن آپس میں مل نہ جائیں۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ، فَلْيَمْحُهُ

ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے (سنی ہوئی باتیں) مت لکھو، جس نے قرآن مجید (کے ساتھ) اس کے علاوہ میری کوئی بات (حدیث) لکھی وہ اس کو مٹا دے

حضور ﷺ نے کیوں منع فرمایا؟ اس کی حکمت یہ تھی کہ قرآن اور غیرِ قرآن آپس میں مل نہ جائیں، یعنی حدیث کو قرآن نہ سمجھیں اور قرآن کو حدیث نہ سمجھیں۔

البتہ بعد میں رسولِ اکرم ﷺ نے بعض صحابۂ کرام کو حدیث لکھنے کی اجازت بھی عطا فرمائی۔


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری عادت تھی کہ میں   رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنت تھا، اسے لکھ لیا کرتا تھا۔ قریش نے انہیں منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ بشر ہیں، ہر کیفیت میں گفتگو فرماتے ہیں اس لیے ہر بات نہ لکھو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اُكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقُّ 

ترجمہ:
لکھو! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اس سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔


اس سے پتا چلا کہ ابتدا میں حدیثِ مبارکہ کا حفظ فی الصدور کیوں رہا، اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم احادیثِ مبارکہ کو لکھا بھی کرتے تھے۔

تو اس طرح حدیثِ مبارکہ کی حفاظت کے پہلے مرحلے میں حفظ اور کتابت دونوں کے آثار موجود تھے، لیکن عمومی اور نمایاں طریقہ حفظ فی الصدور ہی تھا۔ یہی سلسلہ عہدِ رسالت ﷺ سے خلفائے راشدین، خلافتِ اُمویہ اور تابعین کے ابتدائی دور تک جاری رہا، پھر آگے چل کر حدیثِ مبارکہ کی باقاعدہ تدوین کی طرف پیش رفت ہوئی۔ 
*کتابتِ حدیث میں ممانعت و اجازت کا تعارض*

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ
ترجمہ:
مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، اور جس شخص نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہو، وہ اسے مٹا دے، اور مجھ سے حدیث بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن دوسری طرف بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسولِ اکرم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ کو لکھا بھی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا، اسے لکھ لیا کرتا تھا۔ قریش نے مجھے اس سے منع کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
اُكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقُّ
ترجمہ:
لکھو! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
اب بظاہر ان دونوں احادیث میں تعارض معلوم ہوتا ہے کہ ایک حدیث میں کتابتِ حدیث سے منع فرمایا گیا اور دوسری حدیث میں لکھنے کی اجازت دی گئی۔

`دونوں احادیث میں تطبیق`

علمائے کرام نے ان دونوں روایات میں مختلف طریقوں سے تطبیق بیان فرمائی ہے۔ ایک اہم تطبیق یہ ہے کہ ابتدائی دور میں کتابتِ حدیث سے اس لیے ممانعت فرمائی گئی تھی کہ قرآنِ کریم اور حدیثِ مبارکہ کے باہم خلط ملط ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس وقت قرآنِ کریم نازل بھی ہو رہا تھا اور اس کی کتابت بھی جاری تھی، اس لیے یہ اندیشہ موجود تھا کہ کہیں قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ ایک ہی تحریر میں جمع ہو کر لوگوں کے لیے مشتبہ نہ ہوجائیں۔
پھر جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآنِ کریم کے اسلوب، اس کی آیات اور اس کے امتیاز سے اچھی طرح واقف ہوگئے، اور قرآن و حدیث کے درمیان امتیاز واضح ہوگیا، تو اس ممانعت کا سبب باقی نہ رہا۔ چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ نے بعض صحابۂ کرام کو احادیثِ مبارکہ لکھنے کی اجازت عطا فرمائی۔
یوں دونوں احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے کہ ابتدا میں اختلاط کے اندیشے کی وجہ سے کتابت سے ممانعت تھی، پھر جب یہ اندیشہ باقی نہ رہا تو کتابتِ حدیث کی اجازت عطا فرمائی گئی۔


✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی